رباعی با مطلع «امشب ز غمت میان خون خواهم خفت» نهمین رباعی از دیوان حافظ به تصحیح محمد قزوینی و قاسم غنی می باشد.[۱]
| امشب ز غمت میان خون خواهم خفت | | وز بستر عافیت برون خواهم خفت |
| باور نکنی خیال خود را بفرست | | تا دَرنگرد که بی تو چون خواهم خفت |
منابع
- ↑ «ویکی نبشته، رباعی شماره 9».
|
|---|
|
| غزلها | |
|---|
| قصیدهها | |
|---|
| مثنویها | |
|---|
| قطعهها |
- ۱
- ۲
- ۳
- ۴
- ۵
- ۶
- ۷
- ۸
- ۹
- ۱۰
- ۱۱
- ۱۲
- ۱۳
- ۱۴
- ۱۵
- ۱۶
- ۱۷
- ۱۸
- ۱۹
- ۲۰
- ۲۱
- ۲۲
- ۲۳
- ۲۴
- ۲۵
- ۲۶
- ۲۷
- ۲۸
- ۲۹
- ۳۰
- ۳۱
- ۳۲
- ۳۳
- ۳۴
|
|---|
| رباعیها |
- ۱
- ۲
- ۳
- ۴
- ۵
- ۶
- ۷
- ۸
- ۹
- ۱۰
- ۱۱
- ۱۲
- ۱۳
- ۱۴
- ۱۵
- ۱۶
- ۱۷
- ۱۸
- ۱۹
- ۲۰
- ۲۱
- ۲۲
- ۲۳
- ۲۴
- ۲۵
- ۲۶
- ۲۷
- ۲۸
- ۲۹
- ۳۰
- ۳۱
- ۳۲
- ۳۳
- ۳۴
- ۳۵
- ۳۶
- ۳۷
- ۳۸
- ۳۹
- ۴۰
- ۴۱
- ۴۲
|
|---|
نسخههای سرشناس | |
|---|
|